الفتح الربانی
كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس— حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب
بَابُ جَوَازِ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فِيمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَمُضَاجَعَتِهَا وَمُؤَاكَلَتِهَا باب: ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 946
عَنْ مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ مُحْتَجِزَةً بِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں میں سے حائضہ کے جسم کے ساتھ جسم ملا لیا کرتے تھے، جبکہ اس پر (کم از کم) ایسا ازار ہوتا جو نصف رانوں تک یا گھٹنوں تک پہنچ جاتا تھا، وہ اس سے (مخصوص جگہ کو) محفوظ کر لیتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید میں ہے: {وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضُِّ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ} (البقرۃ: ۲۲۲) اور وہ تجھ سے حیض کے بارے پوچھے ہیں۔ کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے۔ پس حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ اس آیت کو سامنے رکھ کر کچھ لوگ اس باب کے تحت آنے والی احادیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں آ رہا ہے کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو۔ جب کہ احادیث باب سے عورتوں کے ساتھ میل جول اور ان کے ساتھ مباشرت (ساتھ لیٹنا، جسم کے ساتھ جسم ملانا) ثابت ہو رہا ہے جو کہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اس لیے اس احادیث جو قرآن کے خلاف ہوں ان کو ایسے صحیح کہا جا سکتا ہے۔ حالانکہ باب کے تحت آنے والے احادیث سے آیت کا مفہوم واضح ہو رہا ہے کہ حائض سے میل ملاقات اور اس کے ساتھ لیٹ جانا منع نہیں بلکہ اس کے قریب نہ جانے سے مراد جماع نہ کرنا ہے۔ اور اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جو انسؓ سے مروی ہے کہ یہود میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ اکٹھے رہتے۔ صحابہ کرام نے اس بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضُِّ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ} (اس کا ترجمہ شروع ذکر کیا گیا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماع کے علاوہ سب کچھ کرو۔ (مسلم: ۳۰۲) معلوم ہونا مذکورہ الصدر آیت اور احادیث باب کے درمیان کوئی تعارض نہیں بلکہ یہ احادیث کے اندر کیڑے تلاش کرنے والوں کی ذہنی اختراع ہے اور بس۔ (عبداللہ رفیق)