حدیث نمبر: 933
عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَلَكِنِّي أَسْأَلُ، قَالَتْ: قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُؤْمَرُ وَلَا نُؤْمَرُ، فَيَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا يَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

معاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے سوال کیا: کیا وجہ ہے کہ حائضہ خاتون روزوں کی قضائی دیتی ہے اور نماز کی قضائی نہیں دیتی؟ انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تو حروراء علاقے سے ہے؟ میں نے کہا: جی میں حروریہ نہیں ہوں، ویسے سوال کر رہی ہوں، پس انھوں نے کہا: ہمیں یہ حیض آتا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتی تھیں، تو ہمیں (کچھ کا) حکم دیا جاتا تھا اور (کچھ کا) ہمیں حکم نہیں دیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزوں کی قضائی کا حکم دیتے تھے اور نمازوں کی قضائی کا حکم نہیں دیتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … حائضہ خاتون کے مسائل معروف ہیں کہ وہ ان ایام میں نہ نماز ادا کر سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے، البتہ بعد میں روزوں کی قضائی دے گی، چونکہ بیت اللہ کے طواف کو بھی نماز کہا گیا ہے، اس لیے وہ اس حالت میں طواف بھی نہیں کر سکتی، جب حائضہ کا خون ختم ہو جائے گا تو وہ غسل کر کے پاک ہو جائے گی۔ کوفہ کے قریب دو میل کے فاصلے پر ایک مقام کا نام حروراء تھا، خوارج سب سے پہلے اس مقام میں جمع ہوئے تھے، ان کا ایک گروہ اس امر کا قائل تھا کہ حائضہ عورت کو روزوں کی طرح نمازوں کی قضائی بھی دینی چاہیے، یہ ایک باطل نظریہ تھا، اس نظریے کو سامنے رکھ کر سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے پوچھا تھا کہ اس کا تعلق خارجیوں سے تو نہیں ہے۔ اگلے ابواب میں حائضہ کے مزید احکام بیان کیے جا رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 933
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 321، ومسلم: 335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26477»