الفتح الربانی
كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس— حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب
بَابُ مَوَانِعِ الْحَيْضِ وَمَا تَقْضِي الْحَائِضُ مِنَ الْعِبَادَاتِ باب: حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَلَكِنِّي أَسْأَلُ، قَالَتْ: قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُؤْمَرُ وَلَا نُؤْمَرُ، فَيَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا يَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِمعاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے سوال کیا: کیا وجہ ہے کہ حائضہ خاتون روزوں کی قضائی دیتی ہے اور نماز کی قضائی نہیں دیتی؟ انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تو حروراء علاقے سے ہے؟ میں نے کہا: جی میں حروریہ نہیں ہوں، ویسے سوال کر رہی ہوں، پس انھوں نے کہا: ہمیں یہ حیض آتا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتی تھیں، تو ہمیں (کچھ کا) حکم دیا جاتا تھا اور (کچھ کا) ہمیں حکم نہیں دیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزوں کی قضائی کا حکم دیتے تھے اور نمازوں کی قضائی کا حکم نہیں دیتے تھے۔