الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي التَّوَكُل باب: توکل کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9259
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُحْصِي شَيْئًا وَأَكِيلُهُ قَالَ يَا أَسْمَاءُ لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ قَالَتْ فَمَا أَحْصَيْتُ شَيْئًا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي وَلَا دَخَلَ عَلَيَّ وَمَا نَفِدَ عِنْدِي مِنْ رِزْقِ اللَّهِ إِلَّا أَخْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں کوئی چیز گن رہی تھی اور اس کا ماپ کررہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسماء! گنا نہ کر، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر گننا شروع کر دے گا۔ سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بعد میرے پاس جو رزق آیا اور جو خرچ ہوا، میں نے کبھی کسی چیز کو شمار نہیں کیا اور جس دن اللہ تعالیٰ کا جو رزق خرچ ہوا، اس نے اس کا متبادل عطا کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے صدقہ کرنا اور یہ امید رکھنا کہ وہ اس کا بہترین صلہ عطا فرمائے گا، اگر مسلمان عملی طور پر یہ نظریہ قائم کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے ظن کے مطابق اس کو عطا کرتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ پر توکل کے بارے میں سب سے پر اثر آیتیہ ہے: {وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗمَخْرَجًا۔وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ} … اورجواللہسےڈرےگاوہاسکےلیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ (سورۂ طلاق:۲، ۳)
اللہ تعالیٰ پر توکل کے بارے میں سب سے پر اثر آیتیہ ہے: {وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗمَخْرَجًا۔وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ} … اورجواللہسےڈرےگاوہاسکےلیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ (سورۂ طلاق:۲، ۳)