حدیث نمبر: 9258
عَنْ سَلَّامٍ أَبِي شُرَحْبِيلَ قَالَ سَمِعْتُ حَبَّةَ وَسَوَاءَ ابْنَيْ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا يَقُولَانِ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعْمَلُ عَمَلًا أَوْ يَبْنِي بِنَاءً فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا لَنَا وَقَالَ لَا تَيْأَسَا مِنَ الْخَيْرِ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنَ الرِّزْقِ) مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا إِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرَةٌ ثُمَّ يُعْطِيهِ اللَّهُ وَيَرْزُقُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا حَبّہ اور سیدنا سواء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کام کر رہے تھے یا کوئی عمارت بنا رہے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ہمارئے لیے دعا کی اور فرمایا: جب تک تمہارے سر حرکت کرتے رہیں گے، اس وقت تک تم نے خیر اور رزق سے ناامید نہیں ہونا، بیشک جب انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو اس پر باریک لباس تک نہیں ہوتا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9258
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ھلال بن سويد، قال البخاري: روي عن انس لا يدخر شيء لغد ولا يتابع عليه، وعدّ ه العقيلي وابن عدي في الضعفائ، أخرجه ابويعلي: 4223، والبيھقي في الشعب : 1347 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15950»