حدیث نمبر: 9257
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ طَوَائِرَ فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا فَلَمَّا كَانَ فِي الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں تین پرندے پیش کیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پرندہ اپنے خادم کو کھلا دیا، اگلے دن خادمہ نے ایک پرندہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تجھے اس چیز سے منع نہیں کیا تھا کہ کوئی چیز اگلے دن کے لیے نہ رکھا کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر دن کا رزق عطا کرتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9257
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ھلال بن سويد، قال البخاري: روي عن انس لا يدخر شيء لغد ولا يتابع عليه، وعدّ ه العقيلي وابن عدي في الضعفائ، أخرجه ابويعلي: 4223، والبيھقي في الشعب : 1347 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13074»