الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي التَّوَكُل باب: توکل کی ترغیب دلانے کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ الْأُمَمَ بِالْمَوْسِمِ فَرَاثَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ قَالَ فَأُرِيتُ أُمَّتِي فَأَعْجَبَنِي كَثْرَتُهُمْ قَدْ مَلَأُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ فَقِيلَ لِي إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ قَالَ عُكَاشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهُ ثُمَّ قَامَ يَعْنِي آخَرَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَهُمْ قَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حج کے زمانے میں امتیں دکھائی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت تاخیر سے دکھائی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت مجھے دکھائی گئی تو اس کی کثرت نے مجھے تعجب میں ڈال دیا، ہموار جگہ کیا پہاڑ کیا، ہر جگہ کو بھرا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا کہ ان کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے بھی ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، دم نہیں کرواتے، برا شگون نہیں لیتے اور اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی، اتنے میں ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔