حدیث نمبر: 9253
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَتَوَكَّلُونَ (وَفِي رِوَايَةٍ لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ) عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ أَلَا تَرَوْنَ أَنَّهَا تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح توکّل کرو، جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تم اس طرح روزی دے گا، جیسے وہ پرندے کو روزی دیتا ہے، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ پرندہ صبح کو خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کو سیرو سیراب۔

وضاحت:
فوائد: … توکل کا مطلب ہے جائز اسباب و وسائل استعمال کر کے اپنے مقصود تک پہنچنے کی کوشش کی جائے اور اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پرکیا جائے، کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل حال نہیں ہو گی، اسباب و وسائل بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ بہرحال ظاہری اسباب کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے، کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا ہے، جیسے پرندے گھونسلوں کے اندر نہیں بیٹھے رہتے، بلکہ تلاشِ رزق میں باہر نکلتے اور گھومتے پھرتے ہیں اور تب اللہ تعالیٰ ان کو رزق دیتا ہے۔
آجکل اکثرو بیشتر تاجروں اور دوکانداروں کو دیکھا گیاہے کہ وہ اپنی تجارت اور دوکانداری میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ نماز سمیت اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے کئی حقوق کا خیال نہیں رکھتے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بعض لوگ
پیسے کی ہوس میں پڑ کر حلال و حرام کی تمیز ختم کر دیتے ہیں اور مختلف حربے استعمال کر کے حرام کو جائز کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگ انتہائی ضعیف الایمان ہو چکے ہیں، ان کو چاہیے کہ کاروبار کو نہیں، اللہ تعالیٰ کو روزی رساں سمجھیں اور اس کی فرمانبرداری کر کے اس پر توکل کرنے کا صحیح حق ادا کریں۔
شیخ الاسلام صابونی نے کیا خوب اشعار کہے ہیں: تَوَکَّلْ عَلَی الرَّحْمٰنِ فِیْ کُلِّ حَاجَۃٍ اَرَدْتَّ فَاِنَّ الــلّٰــہَ یَقْضِیْ وَ یَقْدِرُ
مَتٰی مَا یُرِدْ ذُوْ الْعَرْشِ اَمْرًا بِعَبْدِہِ یُصِبْہُ وَ مَــــــا لِلْـعَبْدِ مَا یَتَخَیَّرُ
وَ قَدْ یَھْلِکُ الْاِنْسَانُ مِنْ وَجْہٍ اَمِنَہٗوَیَنْجُوْ بِاِذْنِ اللّٰہِ مِنْ حَیْثُیَحْذَرُ
تو ہر اس ضرورت میں رحمن پر توکل کر جس کا تونے ارادہ کر لیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے اور مقدار مقرر کرتا ہے۔ جب عرش والا اپنے بندے کے لیے کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اس کو اس تک پہنچا دیتاہے اور بندے کے لیے وہ کچھ نہیں ہے، جس کا وہ ارادہ کرتاہے۔ بعض اوقات انسان اس صورت میںہلاک ہو جاتا ہے، جس کے بارے میں وہ امن میں ہوتا ہے اور اللہ کے حکم سے وہاں سے نجات پا جاتا ہے، جہاں سے ڈر رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 373»