الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْحَياءِ وَإِنَّهُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْر باب: شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ((اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْحَيَاءِ)) قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَسْتَحِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَ ((لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ مَنِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا حَوَى وَالْبَطْنَ وَمَا وَعَى وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلَى وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْحَيَاءِ))۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: اللہ تعالیٰ سے شرماؤ، جیسے اس سے شرمانے کا حق ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بیشک ہم اس سے شرماتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاملہ اس طرح نہیں ہے، جیسے تم نے سمجھ رکھا ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ سے کما حقہ شرمانا چاہتا ہو تو وہ سر کی اور ان چیزوں کی حفاظت کرے، جن کو سر نے سمیٹا ہوا ہے اور حفاظت کرے پیٹ کی اور ان چیزوں کی، جن پر پیٹ مشتمل ہے اور موت اور بوسیدگی کو یاد کرے اور جو آخرت کا ارادہ رکھتا ہے، وہ دنیا کی زینت چھوڑ دے، جس نے ایسے کیا، وہ اللہ تعالیٰ سے شرما گیا، جیسے اس سے شرمانے کا حق ہے۔