الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي اكْرَامِ الأَنَاتِ مِنَ الأَولادِ فَضْلِ تَرْبِيَتِهِنَّ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِنَّ باب: بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9047
۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا ، اِنَّ امْرَاَۃً دَخَلَتْ عَلَیْھَا، ومَعَھَا اِبْنَتَانِ لَہَا، قَالَتْ: فَاَعْطَیْتُھَا تَمْرَۃً فَشَقَّتْھَا بَیْنَھُمَا، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((مَنِ ابْتُلِیَ بِشَیْئٍ مِّنْ ھٰذِہِ الْبَنَاتِ فَاَحَسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، میں نے اس کو ایک کھجور دی اور اس نے اس کھجور کو اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دیا، پھر جب میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان بیٹیوں کے ذریعے آزمایا گیا، لیکن اس نے ان کے ساتھ احسان کیا تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔