حدیث نمبر: 9045
۔ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَخْزُوْمِیِّ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: یَابُنَیَّ! اَلا اُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰییَااُمَّہْ! قَالَتْ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَنْفَقَ عَلَی ابْنَتَیْنِ، اَوْ اُخْتَیْنِ، اَوْ ذَوَاتَیْ قَرَابَۃٍ،یَحْتَسِبُ النَّفْقَۃَ عَلَیْھِمَا حَتّٰی یُغْنِیَھُمَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ عَزَّوَجَلَّ، اَوْ یَکْفِیَھُمْا، کَانَتَا لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد المطلب مخزومی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: اے پیارے بیٹا! کیا میں تجھے وہ حدیث بیان نہ کروں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اماں جان! انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دو بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا دو رشتہ دار لڑکیوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان دو بچیوں کو اپنے فضل سے غِنٰی کر دیتا ہے یا ان کو کفایت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9045
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف محمد بن ابي حميد الانصاري المدني، أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 938 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26516 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»