حدیث نمبر: 9042
۔ عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ لَہُ: ((یَاسُرَاقَۃُ! اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی اَعْظَمِ الصَّدَقَۃِ، اَوْ مِنْ اَعْظَمِ الصَّدَقَۃِ ؟)) قَالَ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِبْنَتُکَ مَرْدُوْدَۃٌ اِلَیْکَ لَیْسَ لَھَا کَاسِبٌ غَیْرُکَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے سراقہ! کیا میں سب سے بڑے صدقے کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے اور تیرے علاوہ اس کے لیےکمانے والا کوئی نہ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … تیری بیٹی جو تیری طرف لوٹا دی جائے۔ اس سے مراد بیٹی کا طلاق ملنے یا بیوہ ہو جانے کی وجہ سے اپنے باپ کے پاس گھر واپس آ جانا ہے، عام طور پر ایسی بچیوں کی کفالت کو بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن خبردار! ایسی بے آسرا بچی اور بہن کا آسرا بننا بڑی سعادت کی بات ہو گی، ایک شفقت والا بھائی مجھے یاد آ رہا ہے، جس نے اپنی دکھی بہن سے کہا تھا: بہن! تیری اور تیرے بچے کی کفالت کی خاطر میں شادی نہیں کروں گا۔ کتنا محبت بھرا انداز ہے، بہن کو کتنی تسلی ہوئی ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9042
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، علي بن رباح لم يسمعه من سراقة، أخرجه ابن ماجه: 3667، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17586 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»