الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي اكْرَامِ الأَنَاتِ مِنَ الأَولادِ فَضْلِ تَرْبِيَتِهِنَّ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِنَّ باب: بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9040
۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ اَوْ غَیْرِہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَنْ عَالَ ابْنَتَیْنِ اَوْ ثَلاثَ بَنَاتٍ اَوْ اُخْتَیْنِ اَوْ ثَـلَاثَ اَخَوَاتٍ، حَتّٰییَمُتْنَ اَوْ یَمُوْتَ عَنْھُنَّ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ۔)) وَاَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں،یا تین بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا تین بہنوں کی پرورش کی اور ان کے ضروری اخراجات کا ذمہ دار بنا، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئیں یا وہ خود فوت ہو گیا تو میں اور وہ شخص ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔