الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي اكْرَامِ الأَنَاتِ مِنَ الأَولادِ فَضْلِ تَرْبِيَتِهِنَّ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِنَّ باب: بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9038
۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لا یَکُوْنُ لِاَحَدٍ ثَلاثُ بَنَاتٍ، اَوْ ثَلاثُ اَخَوَاتٍ، اَوْ بِنْتَانِ، اَوْ اُخْتَانِ ، فَیَتَّقِی اللّٰہَ فِیھِنَّ، وَیُحْسِنُ اِلَیْھِنَّ، اِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور ان کے ساتھ احسان کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔