الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي اكْرَامِ الأَنَاتِ مِنَ الأَولادِ فَضْلِ تَرْبِيَتِهِنَّ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِنَّ باب: بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ بِالْمَدِیْنَۃِ، فَمَرَّ شَیْخٌیُقَالَ لَہُ شُرَحْبِیْلُ اَبُوْسَعْدٍ، فَقَالَ: یَااَبَا سَعْدٍ، مِنْ اَیْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عِنْدِ اَمِیْرِالْمُؤْمِنِیْنَ، حَدَّثْتُہُ بِحَدِیْثٍ، فَقَالَ: لِاَنْ یَّکُوْنَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ حَقًّا، اَحَبُّ اِلَّیٰ مِنْ اَنْ یَّکُوْنَ لِیْ حُمْرُ النَّعَمِ، قَالَ: حَدَّثَ بِہٖالْقَوْمَ،قَالَ: سَمِعْتُابْنَعَبَّاسٍیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِکُ لَہُ ابْنَتَانِ، فَیُحْسِنُ اِلَیْھِمَا مَا صَحِبَتَاہُ، اَوْ صَحِبَھُمَا، اِلَّا اَدْخَلَتَاہُ الْجَنَّۃَ۔))۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ابو سعد شرحبیل نامی ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا، انھوں نے کہا: اے ابو سعد! کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین کے پاس سے، میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی اور انھوں نے کہا: اگر یہ حدیث واقعی ثابت ہے تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہو گی، پھر انھوں نے لوگوں کو وہ حدیث بیان کی اور کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی دو بیٹیاں بالغ ہو جائیں اور پھر وہ جب تک اس کے ساتھ رہیں،یا وہ ان کے ساتھ رہے تو وہ ان کے ساتھ احسان کرتا رہے تووہ اس کو جنت میں داخل کر دیں گی۔