الفتح الربانی
مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة— اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوْفِ مِنَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ باب: اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى ذَهَبَ عَصْرُهُ وَجَاءَ عَصْرٌ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ أَيْ بَنِيَّ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ قَالُوا خَيْرَ أَبٍ قَالَ أَنْتُمْ مُطِيعِيَّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ تُحَرِّقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي فَحْمًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ ثُمَّ اهْرُسُونِي بِالْمِهْرَاسِ يُومِئُ بِيَدِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ أَيْ رَبِّ مَخَافَتُكَ قَالَ فَتَلَافَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے ایک آدمی کے مال و دولت میں بڑی برکت عطا کی تھی،یہاں تک کہ اس کا زمانہ گزر گیا اور نیا زمانہ آنے لگا، پس جب اس کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اس نے کہا: تم نے مجھے کیسا باپ پایا؟انھوں نے کہا: بہترین باپ، اس نے کہا: کیا تم میری اطاعت کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: دیکھو، جب میں مر جاؤں تو تم نے مجھے اتنا جلانا ہے کہ میں کوئلے بن جاؤں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: پھر مجھے ہاون دستے سے کوٹ دینا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر مجھے (یعنی میری راکھ کو) ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، ہو سکتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے چھپ جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا،لیکن اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے قبضے میں کر کے پوچھا: اے آدم کے بیٹے! تجھے یہ کاروائی کرنے پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا ڈر تھا، پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی کوتاہی کو معاف کر دیا۔