الفتح الربانی
مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة— اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوْفِ مِنَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ باب: اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8938
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا أَقُولُ فِي رَجُلٍ خَيْرًا وَلَا شَرًّا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يُخْتَمُ لَهُ يَعْنِي بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَمَا سَمِعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَشَدُّ انْقِلَابًا مِنَ الْقِدْرِ إِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْيًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سید مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد اب اس وقت تک کسی شخص کے بارے میں خیریا شرّ کا فیصلہ نہیں کرتا، جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ کس عمل پر اس کی زندگی کا اختتام ہو رہا ہے، کسی نے کہا: کون سی حدیث تو نے سنی ہے؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہونے والا ہے، جو ساری کی ساری ابل رہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے دور کے لوگ رسوخ والے اور اپنے اپنے نظریوں پر قائم رہنے والے ہوتے تھے، عصر حاضر میں وقار، متانت اور سنجیدگی جیسی صفات نایاب ہوتی جارہی ہیں، اسی کی ایک شق یہ ہے کہ لوگوں کا نیکیوں سے برائیوں کی طرف اور برائیوں سے نیکیوں کی طرف منتقل ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا، زیادہ غالب چیزیہی ہے کہ لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی معرفت اور محبت سے خالی ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بدعملی میں بڑا اضافہ ہو رہا ہے۔