حدیث نمبر: 8907
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَنْتَصِبُونَ فِي الْعِبَادَةِ مِنْ أَصْحَابِهِ نَصَبًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشَرَّتُهُ وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شَرَّةٌ وَلِكُلِّ شَرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَلِأُمِّ مَا هُوَ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى مَعَاصِي اللَّهِ فَذَلِكَ هُوَ الْهَالِكُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ میں سے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو بڑی سختی سے عبادت کرنے میں گڑ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسلام کا چسکہ، شدت اور حرص ہے اور ہر چسکے کی حرص اور اس میں افراط ہوتا ہے، لیکن ہر افراط کے بعد سستی اور تھماؤ بھی ہوتا ہے، پس جس کا تھماؤ کتاب و سنت کی طرف ہوا اس نے سیدھے راستے کا قصد کیا اور جس کی سستی اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی طرف ہوئی تو وہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ مزید ایک روایتیہ ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لِلإِْسْلَامِ شِرَّۃً، وَإِنَّ لِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃً، فَإِنْ کَانَ صَاحِبُھُمَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوْہُ، وَإِنْ أُشِیْرَ إِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ فَـلَا تَرْجُوْہُ۔)) … اسلام کے لیےحرص، شدت اور رغبت ہوتی ہے اور ہر رغبت کے بعد سکون اور تھماؤ ہوتا ہے، (دیکھو) اگر نیک کام کی رغبت رکھنے والا راہِ صواب پر چلتا ہے اور میانہ روی اختیار کرتا ہے تو اس کے بارے میں امید رکھو (کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہو گا) اور اگر (وہ عبادت میں اس قدر غلو کرے کہ) اس کی طرف انگلیوں کے ساتھ اشارے کیے جائیں تو اس کے بارے میں امید نہ رکھو (کہ وہ نیک آدمی ہو گا)۔ (ترمذی: ۲۴۵۵،صحیحہ:۲۸۵۰)
اگر کسی شخص کو دین اسلام کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اسے چاہیے کہ صاحب ِ دین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرزِ حیات کو اسوۂ حسنہ قرار دے اور افراط و تفریط سے بچے۔
اور ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہوتی ہے کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میںمبالغہ کرنے والا بالآخر سست پڑ جاتا ہے، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں دو قسم کے لوگوں کا بیان ہے: ۱ … نیک لوگ، جو اعتدال اور میانہ روی سے کام لیتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں، بالخصوص ماں باپ، اہل و عیال اور اعزہ واقارب کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، ان کے معاملات میں تسلسل اور استقامت ہوتی ہے، ان کی عبادات میں اس قدر کثرت نہیں پائی جاتی کہ وہ اس بنا پر مشہور ہو جائیں، عام طور پر ایسے لوگ پرخلوص ہوتے ہیں اور اپنی مراد پر فائز ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں اچھی امید رکھنی چاہیے۔
۲ … اس کے برعکس کچھ لوگ عبادت اور نیکی میں اس قدر افراط اور غلو کرتے ہیں کہ لوگ ان کی طرف انگلیاں اٹھانے لگ جاتے ہیں، سب لوگوں میں ان کا بڑا شہرہ ہونے لگتا ہے کہ فلاں بڑا عابد و زاہد، درویش ِ کامل اور عالم و فاضل ہے۔ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ مکّار اور ریاکار نکلتے ہیں، ان کی غرض شہرت اور ناموری ہوتی ہے، افراط و تفریط میں اس قدر مبتلا ہو جاتے ہیں کہ بیوی بچوں اور ماں باپ کے حقوق پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہ طریقہ خلاف ِ سنت ہے۔
اس میں جاہل درویشوں کا ردّ ہے، جو رات دن مراقبے اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں، سخت سخت ریاضت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو شریعت کا پابند ٹھہرنا چاہیے نہ کہ اپنی عقل کا اور جہاں تک ہو سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق اپنے اعمال کو مخفی رکھنا چاہیے۔ ہر وقت یہ نقطہ ذہن میں رہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا خیال رکھا جائے، ہمارے ماحول میں بھی افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ کچھ لوگ حقوق اللہ کا بہانہ کر کے بندوں کے حقوق سے غفلت برت رہے ہیں اور کچھ حقوق العباد کابہانہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حقوق سے غافل ہیں۔
بعض نوجوانوں کو دیکھا گیا ہے کہ کسی خطیب کے خطاب یا کسی نیکوکار کی مجلس سے متاثر ہو کر عملی طور پر اسلام کی طرف راغب ہوتے ہے اورہفتہ عشرہ تک ان کا عمل جاری رہتا ہے، پھر ان پر غفلت اور سستی کاحملہ ہوتا ہے اور مزاج یکسر بدل جاتا ہے، اس وقت ان کے لیے انتہائیضروری ہوتا ہے کہ وہ عبادت کی روٹین کو برقرار رکھ کر شیطان کا مقابلہ کریں،یہاں تک کہ دوبارہ پھر رغبت پیدا ہوئے، یہ رغبت ان شاء اللہ دائمی ہو گی، جو لوگ غفلت والے اس پیریڈ میں اپنی روٹین کو ترک کر دیتے ہیں، ان کی عبادات میں کبھی تسلسل اور دوام نہیں آ سکتا، بلکہ وہ اپنی انسانیت کو سمجھنے سے ہی قاصر رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8907
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن،أخرجه الطبراني في الكبير ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6540»