الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ باب: اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8906
عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ)) قَالُوا وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک صورتحال یہ ہے کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔ صحابہ نے کہا: اور نہ آپ کو اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور نہ مجھے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ عذاب سے نجات اور اجر و ثواب کے ساتھ کامیابی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل و کرم پر ہے، عامل کے عمل کا یہ مطلب نہیں کہ اب اس کا ثواب دینا اللہ تعالیٰ پر فرض ہو گیا ہے اور وہ بندے کا ایسا حق بن گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو ادا کرنا پڑے گا، جبکہ عمل کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی اور اس کے اسباب بھی اسی نے مہیا کیے تھے، دراصل نیکی کا اجرو ثواب محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْب’‘ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ} … اور تم خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارو، بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔ (الاعراف: ۵۶)
لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مفہوم کشید نہ کیا جائے کہ عمل کی وقعت ختم ہو گئی ہے، دراصل بندوں کو اس بات پر مطلع کیا جا رہا ہے کہ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے مکمل ہو گا، تاکہ وہ اپنے اعمال پر ناز کرنا شروع نہ کر دیں، بلکہ عملِ کثیر کرنے کے باوجود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج سمجھیں اور اس کے منتظر رہیں۔
اس طرح اس حدیث کا اس آیت سے کوئی تعارض نہیں ہے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور تم کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا، ان اعمال کے سبب، جو تم کیا کرتے تھے۔ (سورۂ زخرف: ۷۲)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عمل کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلم ہے، لیکن عمل کرنے والوں کو اپنا صلہ پانے اور کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضرورت ہے۔
لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مفہوم کشید نہ کیا جائے کہ عمل کی وقعت ختم ہو گئی ہے، دراصل بندوں کو اس بات پر مطلع کیا جا رہا ہے کہ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے مکمل ہو گا، تاکہ وہ اپنے اعمال پر ناز کرنا شروع نہ کر دیں، بلکہ عملِ کثیر کرنے کے باوجود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج سمجھیں اور اس کے منتظر رہیں۔
اس طرح اس حدیث کا اس آیت سے کوئی تعارض نہیں ہے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور تم کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا، ان اعمال کے سبب، جو تم کیا کرتے تھے۔ (سورۂ زخرف: ۷۲)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عمل کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلم ہے، لیکن عمل کرنے والوں کو اپنا صلہ پانے اور کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضرورت ہے۔