الفتح الربانی
الإخلاص فى النية والعمل— نیت اور عمل میں اخلاص
بَابُ إِحْسانِ النِّيَّةِ عَلَى الْخَيْرِ وَمُضَاعَفَةِ الْآخِرِ بسبب ذلِكَ وَمَا جَاءَ فِي الْعَزْمِ وَالْهَمْ باب: خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ أَوْ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُضَاعِفَ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً۔ (دوسری سند) نبی کریم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھا ہے، پس جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس کو عملاً کرتا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس ایک مکمل نیکی کی صورت میں لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا تک یا جتنا اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے، اس کو بڑھا کر لکھ لیتا ہے، لیکن جو برائی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کو عملاً کر بھی لیتا ہے تو وہ اس کو ایک برائی ہی لکھتاہے۔
۲۔ برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا، لیکن پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنا
۳۔ برائی کا عزم کرنا اور اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں لگے رہنا
۴۔ برائی کا ارادہ کرنا اور عملی طور پر اس کا مرتکب ہو جانا
پہلا مرتبہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، دوسرے مرتبے کا نتیجہ نیکی ہے، اور تیسرا اور چوتھا مرتبہ قابل مؤاخذہ جرائم ہیں۔ اس موضوع کی تمام احادیث کو ان مراتب کی روشنی میں سمجھا جائے۔