حدیث نمبر: 860
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُنُبٌ وَلَا صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں جنابت والا آدمی، تصویر اور کتا ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

وضاحت:
فوائد: … کتے سے مراد وہ کتا ہے، جو رکھوالی اور شکار کے لیے نہ رکھا گیا ہو، آج کل اکثر دیہاتی لوگ لڑانے کے لیے اور اکثر شہری لوگ صرف اپنا شوق پورا کرنے کے لیے کتے پالتے ہیں، جبکہ یہ عادت انتہائی قابل مذمت ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اقْتَنٰی کَلْبًا لَیْسَ بِکَلْبِ مَاشِیَۃٍ اَوْ ضَارِیَۃٍ نَقَصَ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ عَمَلِہٖ قِیْرَاطَانِ۔)) … جس نے ایسا کتا پالا جو جانوروں (کی رکھوالی) یا شکار کے لیے نہ ہو، ہر روز اس کے عمل سے دو قیراط اجر کم ہو جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) جنازے کے ثواب والی احادیث سے قیراط کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ: وہ احد پہاڑ کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 860
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره دون ذكر الجنب۔ أخرجه ابوداود: 227، 4152، والنسائي: 1/ 141 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 632»