الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ الْجُنُبُ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ باب: ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: ((هَٰذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آيَةً))ابو غریف کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انھوں نے تین تین بار کلی اور ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھوں اور بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سرکا مسح کیا اور پھر پاؤں کو دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: وہ بندہ یہ تلاوت کر سکتا ہے، جو جنبی نہ ہو، رہا مسئلہ جنابت والے آدمی کا تو وہ تلاوت نہیں کر سکتا ہے، ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکتا۔
(۲)سیدنا عبدا للہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ۔)) … حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (ترمذی: ۱۳۱، ابن ماجہ: ۵۹۵) اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہے‘ جو حجازیوں سے روایت کرنے میں ضعیف ہے اور یہ حدیث حجازیوں سے ہے۔
(۳)سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ مَا لَمْ تَکُنْ جُنُبًا۔)) … سوائے حالت ِ جنابت کے آپ ہر حال میں قرآن پڑھ سکتے ہیں۔ (ابن عدی: ۳/۹۲۵) اس کی سند میں خارجہ بن مصعب ہے‘ جو کہ متروک ہے اور جھوٹے راویوں سے تدلیس کرتا ہے۔
(۴)سیدنا علی ؓکہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضوء کیا، پھر قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کیا اور فرمایا: ((ھٰکَذَا لِمَنْ لَیْسَ بِجُنُبٍ‘ فَاَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آیَۃً۔)) … یہ طریقہ کار اس شخص کیلئے ہے جو جنبی نہیں‘ رہا مسئلہ جنبی کا تو وہ ایک آیت بھی تلاوت نہیں کر سکتا۔ (مسند احمد: ۱/۱۱۰، مسند ابو یعلی: ۳۶۵) اس روایت کو عائذ بن حبیب نے عامر بن سمطہ سے مرفوعا بیان کیا‘ جبکہ درج ذیل اوثق رواۃ نے عامر سے سیدنا علیؓ پر موقوفا روایت کیا ہے: یزید بن ہارون‘ امام ثوری‘ خالد بن عبدا للہ‘ حسن بن صالح بن حی‘ شریک بن عبداللہ‘ اسحاق بن ابراہیم۔ یہ روایت اس باب میں بھی موجود ہے، زیادہ وضاحت کی وجہ سے لکھ دی گئی ہے۔
امام دارقطنی نے موقوفا روایت کرنے کے بعد کہا کہ یہ سیدنا علیؓ سے صحیح ہے۔ (دارقطنی:۱/۱۱۸) جبکہ عبدالرزاق نے کہا کہ عبد الرزاق بھی اسی (اثر) کو لے گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/۳۳۶) مزید دیکھیں: ارواء الغلیل: ۲/۲۴۳