الفتح الربانی
أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول— تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب
بَابُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا باب: سورۂ بقرہ کی تفسیر اور اس کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 8484
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے، جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مضمون درج ذیل مرفوع روایت میں بھی بیان کیا گیا ہے: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَؤُوْا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فِيْ بُیُوْتِکُمْ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَدْخُلُ بَیْتًایُقْرَاُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔)) … اپنے گھروں میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے، اس میں شیطان نہیں گھستا۔ (حاکم: ۱/۵۶۱، صحیحہ:۱۵۲۱)
سورۂ بقرہ حق ہے اور شیطان باطل ہے، جہاں حق کا ظہور اور آمد ہو، باطل وہاں سے دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَؤُوْا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فِيْ بُیُوْتِکُمْ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَدْخُلُ بَیْتًایُقْرَاُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔)) … اپنے گھروں میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے، اس میں شیطان نہیں گھستا۔ (حاکم: ۱/۵۶۱، صحیحہ:۱۵۲۱)
سورۂ بقرہ حق ہے اور شیطان باطل ہے، جہاں حق کا ظہور اور آمد ہو، باطل وہاں سے دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔