الفتح الربانی
أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول— تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب
بَابُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا باب: سورۂ بقرہ کی تفسیر اور اس کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 8483
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَقَرَةُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُهُ نَزَلَ مَعَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ثَمَانُونَ مَلَكًا وَاسْتُخْرِجَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَوُصِلَتْ بِهَا أَوْ فَوُصِلَتْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيَسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ بقرہ قرآن مجید کی کوہان اور اس کی چوٹی ہے، اس کی ہر آیت کے ساتھ اسی (۸۰) فرشتے نازل ہوئے اور اس کی آیت {لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} کو عرش الٰہی کے نیچے سے نکالا گیا اور اور پھر اس کو سورۂ بقرہ کے ساتھ ملا دیا گیا۔ سورۂ یٰسین، قرآن مجید کا دل ہے، جو بھی اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور آخرت کے ثواب کے لئے پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا، اپنے قریب المرگ لوگوں کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل حدیث سے ثابت ہوا کہ سورۂ بقرہ واقعی قرآن مجید کی کوہان اور چوٹی ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موقوفًا اور مرفوعًا روایت کرتے ہیں: ((اِنَّ لِکُلِّ شَيْئٍ سَنَامًاوَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ، وَاِنَّ الشَّیْطَانَ اِذَا سَمِعَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ خَرَجَ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِي یُقْرَأُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔)) … ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورۂ بقرہ ہے اور جب شیطان سورۂ بقرہ کی تلاوت سنتا ہے تو وہ اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں اس سورت کی تلاوت کی جا رہی ہو۔ (حاکم: ۱/ ۵۶۱، صحیحہ: ۵۸۸)