الفتح الربانی
أبواب جواز اختلاف القراءات والنهي عن الجدال فيها— قراء ات، ان میں اختلاف کا جواز اور ان کے بارے میں جھگڑنے سے ممانعت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ مِنْ ذلِكَ عَامَّا وَاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فيه باب: قراء توں کے بارے میں عام روایات اور اس مسئلہ میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَمَارَيْنَا فِي سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقُلْنَا خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ آيَةً سِتٌّ وَثَلَاثُونَ آيَةً قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُنَاجِيهِ فَقُلْنَا إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي الْقِرَاءَةِ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا كَمَا عُلِّمْتُمْ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی ایک سورت کے بارے میں ہمارا اختلاف ہو گیا، کسی نے کہا کہ پینتیس آیتیں ہیں اورکسی نے چھتیس آیتوں کی رائے دی، پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشی کرتے ہوئے پایا، ہم نے کہا: قراء ت کے بارے میں ہمارا اختلاف ہو گیا ہے،یہ سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ اس کتاب کو ایسے پڑھو، جیسے تم کو تعلیم دی گئی ہے۔