الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَاب رَأي ابْنِ مَسْعُود بَل فِي مَصَاحِفِ عُثْمَانَ باب: مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے
حدیث نمبر: 8411
عَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَزِعْتُ فِيمَنْ فَزِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَصَاحِفِ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّا لَمْ نَأْتِكَ زَائِرِينَ وَلَكِنْ جِئْنَاكَ حِينَ رَاعَنَا هَذَا الْخَبَرُ فَقَالَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ أَوْ قَالَ حُرُوفٍ وَإِنَّ الْكِتَابَ قَبْلَهُ كَانَ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ فلفلہ جعفی کہتے ہیں: میں بھی ان گھبرانے والوں میں سے تھا، جو قرآن کے بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہو گئے تھے، سو ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم صرف ملاقات کے لئے نہیں آئے، ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ہمیں اس خبر نے بہت خوفزدہ کیاہے کہ (قریش کی زبان میں قرآن پڑھا جائے اور دوسرے نسخے جلا دئیے گئے ہیں۔) انہوں نے کہا: تمہارے نبی پر قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے والی کتابیں ایک ہی قراءت پر نازل ہوتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید کی مختلف قراء ات کی وجہ سے جو اختلاف پیدا ہو گیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ قریش کی قراء ت کو باقی رکھا جائے اور باقی قراء توں کے وجود کو ختم کر دیا جائے، یہ خلیفۂ رسول کا ایک مستحسن فیصلہ تھا، صحابۂ کرام نے ان سے اتفاق کیا، لیکن سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے ان سے مختلف رہی اور وہ اس فیصلے سے متفق نہ ہوئے۔