الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَاب رَأي ابْنِ مَسْعُود بَل فِي مَصَاحِفِ عُثْمَانَ باب: مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے
عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ أَنْ تُغَيَّرَ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفَهُ فَلْيَغُلَّهُ فَإِنَّ مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ قَرَأْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً أَفَأَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ قَرَأَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكِتَابِ۔ خمیر بن مالک کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں مصاحف کو تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے جو آدمی اپنے مصحف کی خیانت کر سکتا ہے، وہ کر لے، کیونکہ جو آدمی جس چیز کی خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اس کو اپنے ساتھ لائے گا، پھر انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے ستر (۷۰) سورتیں سنی ہیں، کیا میں انہیں چھوڑ دوں۔ایک روایت میں ہے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے اس وقت ستر (۷۰) سورتیں سن لی تھیں، جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ لکھنے کے معاملے میں ابھی تک بچہ تھا۔
حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۹/ ۴۹) میںکہا: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خیانت کرنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا نسخہ چھپا لیا جائے تاکہ اس کو نکال کر ختم نہ کر دیا جائے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے سے متفق نہیں تھے، یا وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر انکار تو نہیں کرنا چاہتے تھے، البتہ ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اس قراء ت کو برقرار رکھیں، جس میں ان کی خاص خوبی پائی جاتی تھی، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا مقصد پورا نہیں ہو رہا اور کسی وجۂ ترجیح کے بغیر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی قراء ت کو ترجیح دی جا رہی ہے تو انھوں نے اسی قراء ت پر استمرار کو پسند کیا اور ابن ابی داود نے یہ ترجمۃ الباب قائم کیا: بَابُ رِضَی بْنِ مَسْعُوْدٍ بَعْدَ ذَلِکَ بِمَا صَنَعَ عُثْمَانُ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کیے پر راضی ہو جانے کا بیان) لیکن پھر انھوں نے کوئی ایسی روایت نقل نہیں کی، جو اس سرخی کے موافق ہو۔ شیخ احمد شاکر نے کہا: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اختلاف کے ڈر سے لوگوں کو مصحف الامام پر متفق ہو جانے کا حکم دیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، جبکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور انھوں نے خیانت والی مذکورہ بالا آیت کی تاویل کرنے میں خطا کی ہے، کیونکہیہ آیت خیانتیا تقسیم سے قبل مال غنیمت سے کوئی چیز لے لینے کے بارے میں ہے (جو کہ قابل مذمت چیز ہے)۔
دراصل سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت کو سمجھتے تھے، ان کا مقصد اور تھا۔