حدیث نمبر: 8407
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فِي مَصَاحِفَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ رِجَالٌ يَكْتُبُونَ وَيُمْلِي عَلَيْهِمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ سُورَةِ بَرَاءَةٍ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ [سورة التوبة: ١٢٧] فَظَنُّوا أَنَّ هَذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَقَالَ لَهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِي بَعْدَهَا آيَتَيْنِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ [سورة التوبة: ١٢٨-١٢٩] إِلَى وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ثُمَّ قَالَ هَذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ فَخُتِمَ بِمَا فُتِحَ بِهِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا يُوحَى إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ [سورة الأنبياء: ٢٥]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں صحابہ کرام نے قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کیا، لوگ لکھتے تھے اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ انہیں لکھواتے تھے، جب سورۂ براء ہ کی اس آیت تک پہنچے {ثُمَّ انْصَرَفُوْا صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوبَہُمْ بِأَ نَّہُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَہُونَ} … پھر وہ واپس پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔ توانھوں نے گمان کیا کہ سورت کی آخری آیت ہے، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کے بعد بھی یہ دو آیتیں پڑھائی تھیں: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔} … بلاشہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ پھر انھوں نے کہا: قرآن کا یہ حصہ سب سے آخر میں نازل ہوا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: پس جس توحید کے ساتھ دین کو شروع کیا گیا تھا، اسی کے ساتھ اس کو ختم کیا گیا، ان کی مراد یہ اَللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ تھی، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: {وَمَا أَ رْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا یُوحَی إِلَیْہِ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَ نَا فَاعْبُدُونِ} … اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی گئی کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر میں ہی، پس تم میری عبادت کرو۔ (مذکورہ روایت کے مطابق قرآن مجید کی آیت میں لفظ یہ ہے یُوْحٰی اِلَیْہِ اس (ہر رسول) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ جبکہ ہمارے ہاں معروف قراء ت نُوْحِیْ اِلَیْہِ ہے۔ ہم اس کی طرف وحی کرتے تھے۔) (عبداللہ رفیق)

وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری حصے کا مطلب یہ ہے کہ درج ذیل آیت سے معلوم ہوا کہ ہر نبی نے توحید سے اپنے دین کا آغاز کیا: {وَمَا أَ رْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا یُوحٰی إِلَیْہِ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَ نَا فَاعْبُدُونِ} … اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی گئی کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر میں ہی، پس تم میری عبادت کرو۔ (سورۂ انبیائ: ۲۵) اور اس حدیث کے مطابق سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورۂ براء ۃ کی درج ذیل آیت ہے:{فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔} … پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۲۹) اور اس آیت میں بھی توحید کا ذکر ہے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید سے آغاز کیا اور توحید پر ہی اختتام کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8407
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو جعفر الرازي سييء الحفظ، وقد تفرد بھذا الحديث ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21546»