حدیث نمبر: 8400
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ہم ذاتی مشاہدے کی بات کرنا چاہیں گے کہ زیادہ تر قاری حضرات مقاصد ِ قرآن، احکامِ قرآن اور روحِ قرآن سے غافل ہوتے ہیں، تشریحاتِ نبویہ اور اسلامی آداب سے محروم ہوتے ہیں، صرف اس بنا پر لمبے لمبے سانسوں اور خوش الحانی کی مشق کرتے ہیں کہ لوگ ان کی تلاوت سن کر بلّے بلّے اور عش عش کر اٹھیں۔
قارئین کرام! اگر آپ اتفاق نہ کریں تو ہمارا سوال یہ ہو گا کہ ایک قاری تلاوت کر رہا ہے، سات آٹھ آیات پر مشتمل سورت ایک سانس میں تلاوت کرنا چاہی، سانس لمبا کرنے کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو چکا ہے، اپنے مقصودِتک پہنچنے کے لیے کبھی ٹانگ کو حرکت دیتا ہے، کبھی سر ہلاتا ہے، پیشانی کو ہاتھوں سے دبایا ہوا ہے، منہ کا عجیب ڈیزائن بن چکا ہے، آیات کے معانی سے بالکل غافل ہے، سامعین داد دینے کے لیے دونوں ہاتھ بلند کر چکے ہیں۔ کس نے یہ تکلف کرنے پر مجبور کیا؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اندازِ تلاوت کافی نہیں ہے؟
کئی قراء کرام سے واسطہ پڑا، شعبہ حفظ کے کامیاب استاد ہوتے ہیں، لیکن نمازوں تک سے غافل اور اخلاقی جرائم میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اکثر قاریوں میں نفاق ہوتا ہے، بظاہر قرآن مجید کے ساتھ اپنے تعلق کا بڑا اظہار کرتے ہیں، لیکن حقیقت میںنزولِ قرآن کے مقصد سے غافل ہوتے ہیں۔
بہرحال نیک سیرت اور حسن کردار والے قاری حضرات موجود ہیں، اللہ تعالی ان کی تعداد میں اضافہ فرمائے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علم، فقاہت فی الدین اور عمل پر توجہ دینی چاہیے۔ خطبا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو علم و عمل اور اصلاح و تقوی کی بھی تعلیم دیں، جو شریعت کا اصل مقصود ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8400
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 228 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6633»