الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ لِمَنْ نَسِيَ الْقُرْآنَ أوْ بَعْضَهُ بَعْدَ حِفْظِهِ أَوْ نَرَى بِقَرَاء تِهِ أَوْ نَاكُلَ بِه أَولَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ باب: حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8399
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر منافق قراء ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … غلوّ میں نہ پڑو: الفاظ اور معنی کے اعتبار سے اس سے تجاوز نہ کرو، یعنی نہ اس کی قراء ت میں زیادہ مشقت کرو اور نہ اس کی باطل تاویلیں کرو۔ سنگدل نہ ہو جاؤ: اس کی تلاوت سے دور نہ ہو جاؤ۔ ان دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے حقوق کو سمجھو، اس کے معاملے میں افراط و تفریط سے بچو اور میانہ روی اختیار کرو۔