الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ لِمَنْ نَسِيَ الْقُرْآنَ أوْ بَعْضَهُ بَعْدَ حِفْظِهِ أَوْ نَرَى بِقَرَاء تِهِ أَوْ نَاكُلَ بِه أَولَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ باب: حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8397
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَى قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ فَقَالَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ لوگوں پر قرآن مجید پڑھ رہا تھا، جب وہ فارغ ہوا تو اس نے لوگوں سے سوال کیا، انھوں نے یہ صورتحال دیکھ کر کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو قرآن مجید پڑھے، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے سوال کرے، پس عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن لوگوں سے اس کے ذریعے سوال کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … وَلَا یَدْعُوْ کی بجائے سنن نسائی اور مستدرک حاکم کی روایات کے الفاظ یہ ہیں: لَا یَرْعَوِیْ اور اس لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ اس قرآن مجید کی روکی ہوئی چیز سے رکتا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو شرعی علوم کا مطالعہ کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور وہ اس شوق کو پورا کرنے کے لیے مختلف تفاسیر قرآن اور شروح احادیث کا مطالعہ بھی کرتے ہیں، لیکن ان میں عمل کی کوئی رغبت پیدا نہیں ہوتی، ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے کا صرف یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ان پر عمل کیا جائے۔ ان کی طرف لوگوں کو بلایا جائے تاکہ وہ بھی عمل کریں۔