الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ لِمَنْ نَسِيَ الْقُرْآنَ أوْ بَعْضَهُ بَعْدَ حِفْظِهِ أَوْ نَرَى بِقَرَاء تِهِ أَوْ نَاكُلَ بِه أَولَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ باب: حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8396
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ مِنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک والے سال لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور کے درخت کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بدترین وہ آدمی ہے جو فاجر ہو اور جرات مند ہو، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے، لیکن وہ اس کی کسی چیز کی طرف دعوت نہ دیتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے ہی ہوا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،۶۰ھکےبعدشرّوفساداورقتلوغارتگری بڑھ گئی اور مسلمانوں میں اختلاف زیادہ ہو گیا۔ رجب ۶۰ھکےاوائلمیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی، اسی دن یزید برسرِ اقتدار آ گیا تھا۔ قرآن مجید کے تعلیم و تعلّم سے متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ بار بار اپنے عزائم کا جائزہ لیں۔