حدیث نمبر: 8396
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک والے سال لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور کے درخت کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بدترین وہ آدمی ہے جو فاجر ہو اور جرات مند ہو، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے، لیکن وہ اس کی کسی چیز کی طرف دعوت نہ دیتا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … ایسے ہی ہوا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،۶۰؁ھکےبعدشرّوفساداورقتلوغارتگری بڑھ گئی اور مسلمانوں میں اختلاف زیادہ ہو گیا۔ رجب ۶۰؁ھکےاوائلمیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی، اسی دن یزید برسرِ اقتدار آ گیا تھا۔ قرآن مجید کے تعلیم و تعلّم سے متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ بار بار اپنے عزائم کا جائزہ لیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8396
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه النسائي: 6/11 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11570»