حدیث نمبر: 8395
عَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ خَلَفٌ مِنْ بَعْدِ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا [سورة مريم: ٥٩] ثُمَّ خَلَفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ قَالَ بَشِيرُ فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ فَقَالَ الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ سال بعد ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوات کی اتباع کریں گے، ارشادِ باری تعالی ہے: {اَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فسَوْفَ یُلْقَوْنَ غَیًّا} … پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔ پھر ان کے بعد نااہل ہوں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی ہنسلی کی ہڈی سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن مجیدکی تلاوت تین قسم کے لوگ کرتے ہیں: مومن، منافق اور فاجر۔ بشیر راوی نے کہا: میں نے ولید سے پوچھا: یہ تین آدمی کون ہیں؟ انھوں نے کہا: منافق بھی دراصل قرآن مجید کا منکر ہوتا ہے،فاجر اس کے ذریعے کھاتا ہے اور مومن اس پر ایمان لاتاہے۔

وضاحت:
فوائد: … تیر اتنی تیزی سے شکار کو زخمی کر کے نکل جاتا ہے کہ اس پر خون کے اثرات بھی نظر نہیں آتے، حالانکہ وہ اپنا کام کر چکا ہوتا ہے، اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے بعض لوگ دعوی تو اسلام کا کریں گے، لیکن وہ ایسے فتنوںمیںمبتلا ہو جائیں گے کہ جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا، اکثر محدثین اور شارحین کے نزدیک ایسے لوگوں سے مراد خوارج ہیں، جن کا ذکر اگلے ابواب میں آئے گا۔ لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں، جو تلاوت ِ قرآن مجید میں بڑا شہرہ رکھتے ہیں، لیکن عملی طور پر اسلام کے تقاضوںسے کوسوں دور ہوتے ہیں اور اکثر میں واضح طور پر ریاکاری کا بھی اندازہ ہو رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8395
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابن حبان: 755، والحاكم: 2/ 374 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11360»