الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ اِسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ ذَلِكَ ¤ بَابُ الْحَث عَلَى تَعَاهُدِ الْقُرْآنِ وَاسْتِدْكَارِهِ وَالنَّهْي عَنْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيْتُ آيَةً كَذَا كَذَا باب: قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
حدیث نمبر: 8392
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ مِنْ ذَلِكَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ وَمَا مِنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَنَسِيَهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ أَجْذَمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس افراد کا امیر اور مسؤل قیامت کے دن اس حال میں آئے گاکہ لوہے (کی زنجیر) سے جکڑا ہوا ہو گا، اس قید سے آزاد کرانے والی چیز اس کا عدل و انصاف ہو گا، اور جو آدمی قرآن مجید پڑھنے کے بعد بھلا دیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا (یا کوڑھ زدہ) ہو گا۔