الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ اِسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ ذَلِكَ ¤ بَابُ الْحَث عَلَى تَعَاهُدِ الْقُرْآنِ وَاسْتِدْكَارِهِ وَالنَّهْي عَنْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيْتُ آيَةً كَذَا كَذَا باب: قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ مَثَلُ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَقَلَهَا صَاحِبُهَا حَبَسَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ¤ (8391م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْقُرْآنِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ إِبِلٌ فَإِنْ عَقَلَهَا حَفِظَهَا وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ وَكَذَلِكَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ ¤۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی سی ہے، اگر اس کا مالک اس کو باندھے رکھے تو اس کو روکے رکھے گا اور اگر وہ اس کو کھول دے تو وہ بھاگ جائے گا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال یہ ہے کہ جب اس کا قاری اس کا خیال رکھے اور دن رات اس کی تلاوت کرتا رہے تو یہ اس کو یاد رہے گا، یہ مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کے اونٹ ہوں، اگر وہ ان کو باندھے رکھے تو وہ ان کو روکے رکھے گا اور اگر وہ ان کو چھوڑ دے تو وہ چلے جائیں گے، یہی مثال صاحب ِ قرآن کی ہے۔