الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ اِسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ ذَلِكَ ¤ بَابُ الْحَث عَلَى تَعَاهُدِ الْقُرْآنِ وَاسْتِدْكَارِهِ وَالنَّهْي عَنْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيْتُ آيَةً كَذَا كَذَا باب: قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
حدیث نمبر: 8390
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … میںفلاں آیت بھول گیا۔ اپنی طرف نسیان کی نسبت کرنے سے ممانعت اس لیے ہے کہ انسان ان لوگوں کے زمرے میں شامل نہ ہو جائے، جن کی اللہ تعالی نے اس طرح مذمت کی ہے: {کَذَالِکَ اَتَتْکَ آیٰتُنَا فَنَسِیْتَھَا وَکَذَالِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی۔} … جس طرح (دنیا میں) تیرے پاس ہمارے آیتیں آئیں، لیکن تو نے ان کو بھلا دیا، اسی طرح آج (قیامت کے دن) تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسی بات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، ویسے بھییہ بات انسان کی سستی اور غفلت پر دلالت کرتی ہے۔ قرآن مجید کو بھول جانا، یہ دراصل بندے کا فعل نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالی کا فعل ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ جب بندہ قرآن مجید کو دوہرانے سے غفلت برتتا ہے تو اللہ تعالی اس کی سزا کے طور پر اس کو قرآن مجید بھلا دیتا ہے۔