الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ اِسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ ذَلِكَ ¤ بَابُ الْحَث عَلَى تَعَاهُدِ الْقُرْآنِ وَاسْتِدْكَارِهِ وَالنَّهْي عَنْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيْتُ آيَةً كَذَا كَذَا باب: قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَوْ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ¤ (8389م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ إِنِّي نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بری بات ہے کہ آدمی یہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مجھے بھلا دی گئی ہے۔ قرآن کو یاد رکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔
۔ (دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی نگہداشت رکھو، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہا کرے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہا کرے کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے۔