حدیث نمبر: 8389
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَوْ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ¤ (8389م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ إِنِّي نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بری بات ہے کہ آدمی یہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مجھے بھلا دی گئی ہے۔ قرآن کو یاد رکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔
۔ (دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی نگہداشت رکھو، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہا کرے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہا کرے کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8389
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5032، ومسلم: 790 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3960»