حدیث نمبر: 8387
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَإِنَّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ فَافْتَتَحْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا [سورة النساء: ٤١] قَالَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن مجید کی تلات سناؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کیسے پڑھوں، جبکہ قرآن آپ پر نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہوتی ہے کہ میں دوسروں سے سنوں۔ پس میں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب میں اس آیت پر پہنچا {فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلَاءِ شَہِیدًا}(وہ کیفیت کیسی ہو گی جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور اے پیغمبر تجھے ان سب پر گواہ لائیں گے)، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب دیکھا، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید کی تلاوت غور سے سننا، اس پر تدبّر کرنا، سماع کے وقت رونا اور دوسرے سے قرآن مجید کی تلاوت سنانے کا مطالبہ کرنا، یہ سب مستحبّ اور پسندیدہ امورہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8387
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4118»