الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقُولَهُ الْقَارِئُ عِنْدَ ذِكْرِ آيَةِ عَذَابٍ أَوْ رَحْمَةٍ وَعِنْدَ خَتْمِ بَعْضِ السُّوَرِ باب: عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت¤قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ سَمِعَهُ مِنْ شَيْخٍ فَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَعْرَابِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ فَلْيَقُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَنْ قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَلْيَقُلْ بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ وَمَنْ قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى فَلْيَقُلْ بَلَى قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ هَلْ حَفِظَ وَكَانَ أَعْرَابِيًّا فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَظَنَنْتَ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا سَنَةٌ إِلَّا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سورۂ مرسلات پڑھے اور جب وہ اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} پرپہنچے تو کہے: آمَنَّا بِاللّٰہِ (ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں)، جو آدمی سورۂ تین کی تلاوت کرے تو وہ آخر میں کہے: بَلٰی وَأَ نَا عَلٰی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ (کیوں نہیں، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں)، اور جو آدمی جب یہ آیت {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتٰی} پڑھے، تو وہ کہے: بَلٰی (کیوں نہیں)۔ اسماعیل راوی نے کہا: میں نے کوشش کی کہ پتہ چلاؤں اس اعرابی نے اسے اچھی طرح یاد بھی کیا ہے یا نہیں، اس نے آگے سے کہا: بھتیجے! تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے اسے یاد نہیں کیا، میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور میں ہر سال والے اس اونٹ کو پہچان سکتا ہوں، جس پر میں نے حج کیا۔