الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ فَضْلِ قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ذِكْرِ مَنْ حَفِظَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ مِنَ الصَّحَابَةِ باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ لَرَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ عَنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَعَنْ مُعَاذٍ وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَ يَعْلَى أَحَدُ الرُّوَاةِ وَنَسِيتُ الرَّابِعَ۔ مسروق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے کہا: میں اس وقت سے اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرو: ابن ام عبد، معاذ، مولائے ابی حذیفہ سالم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ابن ام عبد یعنی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ یعلیٰ راوی کہتے ہیں: میں چوتھے کا نام بھول گیا۔