حدیث نمبر: 8375
عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِنِ اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جندب بن سفیان بَجَلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارے دل (غور و فکر اور شوق کے ساتھ) مانوس رہیں، اس وقت تک قرآن مجید کی تلاوت کرو اور جب اکتاہٹ اور بوریت ہو جائے تو (تلاوت روک کر) کھڑے ہو جاؤ۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی جب تک دل قرآن مجید کی طرف متوجہ رہے اور کلی طور پر اس کی قراء ت سے متفق رہے۔
قرآن مجید کی تلاوت نیک لوگوں کا مشغلہ ہے، اس باب میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کی حد مقرر کی گئی ہے، بہرحال کم از کم تیس چالیس دنوں میں ا یک بار مکمل قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تین ایام میں، تلاوت کرتے وقت پورے شوق اور رغبت سے الفاظ پر توجہ کرنی چاہیے، اکتاہت اور بوریت کی صورت میں تلاوت بند کر لینی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8375
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5061، 7364، ومسلم: 2667 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19022»