الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْقِرَائَةِ خَوْفَ الْمَلَلِ، وَفِي كَمْ يُقرَأ الْقُرْآنُ؟ باب: بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان¤کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
حدیث نمبر: 8374
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ بِالنَّهَارِ وَيَبِيتُ بِاللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَنْقِمُ أَنَّ ابْنَكَ يَظَلُّ ذَاكِرًا وَيَبِيتُ سَالِمًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ ایک آدمی اپنا بیٹا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا دن میں قرآن پڑھتا رہتا ہے اور رات کو سو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تیرا بیٹا دن کو ذکر کرتا ہے اور رات کو سلامتی کے ساتھ سو جاتا ہے۔