حدیث نمبر: 8371
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَلَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَرَأَ سُورَةَ الْفَتْحِ قَالَ يَعْنِي مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ مَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُغَفَّلٍ كَيْفَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَهْزٌ وَغُنْدَرٌ قَالَ فَرَجَّعَ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن قراء ت کرتے ہوئے سنا، اگر مجھ پر لوگوں کا ہجوم ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کی نقل اتارتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ فتح پڑھی تھی۔معاویہ بن قرہ نے کہا: اگر مجھ پر لوگوں کے جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی بتلائی ہوئی سورت کی نقل اتارتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسے تلاوت کی تھی، غندر راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز کو گھما کر پڑھا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … مذکورہ آیتیہ تھی: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … اگر تو ان کو عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔ [المائدۃ: ۱۱۸]آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے قیام میں یہی آیت پڑھتے رہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے سامنے عجیب انداز میں عاجزی کا اظہار کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8371
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4281، 4835، 5034، ومسلم: 794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16912»