الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ وَقِرَاءَةِ النَّبِي ﷺ باب: قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرِهِ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَقَالَ مَرَّةً نَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ قَالَ فَرَجَّعَ فِيهَا قَالَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا أَنْ أَكْرَهَ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ۔ معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں سورۂ فتح کی تلاوت کی، اور ایک روایت میں ہے: سورۂ فتح اس وقت نازل ہوئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری پر اس کی تلاوت کی اور بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمایا، پھر سیدنا معاویہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اگر لوگوں کے مجھ پر جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت نقل کرتا۔