الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ وَقِرَاءَةِ النَّبِي ﷺ باب: قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَتْ أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ التَّمَامِ وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ اللَّيْلَةَ التَّمَامَ فَكَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَيْهِ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو ایک رات میں ایک دو دو بار قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں، سیدہ نے ان کے بارے میں کہا: ان کا پڑھنا بھی نہ پڑھنے کی طرح ہے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھتے تھے اور جب خوف والی آیت کی تلاوت کرتے تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور پناہ طلب کرتے اور اگر خوشخبری والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔