الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَهْرِ بِقِرَانَةِ الْقُرْآنِ وَالتَّغَنِّى بِهِ وَحُسْنِ الصَّوْتِ باب: قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
حدیث نمبر: 8364
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات کا مقصود یہ ہے کہ تجوید و حسن صوت اور خوش آوازی و خوش الحانی کے ساتھ ایسے سوز میں تلاوت کی جائے کہ جس سے رقت طاری ہو جائے اور حرفوں کی ادائیگی اس طرح ہو کہ اس میں کمییا بیشی نہ ہو۔ زیادہ تکلف اور تصنع سے بچا جائے، جیسے آج کل کے بہت سے قاری بالخصوص مصر کے بعض قراء تلاوت کرتے ہیں۔