حدیث نمبر: 8364
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان روایات کا مقصود یہ ہے کہ تجوید و حسن صوت اور خوش آوازی و خوش الحانی کے ساتھ ایسے سوز میں تلاوت کی جائے کہ جس سے رقت طاری ہو جائے اور حرفوں کی ادائیگی اس طرح ہو کہ اس میں کمییا بیشی نہ ہو۔ زیادہ تکلف اور تصنع سے بچا جائے، جیسے آج کل کے بہت سے قاری بالخصوص مصر کے بعض قراء تلاوت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8364
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوعوانة: 3890، وابن حبان: 892 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23421»