الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَهْرِ بِقِرَانَةِ الْقُرْآنِ وَالتَّغَنِّى بِهِ وَحُسْنِ الصَّوْتِ باب: قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
حدیث نمبر: 8363
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا قِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا: یہ کون ہے؟ کسی نے کہا: یہ عبداللہ بن قیس ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق اس کو داود علیہ السلام کی بانسریاں عطا کی گئی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔