حدیث نمبر: 8358
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز کو اس قدر غور سے نہیں سنا جتنا وہ اپنے نبی کی آواز سننے کے لئے کان لگاتے ہیں، جب وہ قرآن بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … وکیع راوی کا بیان کیا ہوا معنی درست نہیں ہے، اس کا صحیح معنی قرآن پاک کو خوبصورت آواز میں پڑھنے کا ہے۔
(وہ ہم سے نہیں جو قرآن مجید کے ساتھ (اور چیزوں سے) مستغنی نہیں ہوتا۔ حدیث کا یہ مفہوم بھی ٹھیک ہے، امام بخاری نے اسی زیر مطالعہ حدیث کے لیے عنوان قائم کر کے قرآن مجید کییہ آیت پیش کی ہے۔ {اَوَ لَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ } (العنکبوت: ۵۱) کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی ہے، وہ ان پر پڑھی جاتی ہے۔ یعنییہ کتاب پہلی کتب سماوی سے مستغنی کرتی ہے فضول اشعار اور تحریروں سے بے پرواہ کرتی ہے۔ (بخاری، باب من لم یتغنی بالقرآن قبل الحدیث: ۵۰۲۲) معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے دونوں مفہوم درست ہیںیہ حدیث نبوی کا ایک کمال ہے۔) (عبداللہ رفیق)
بلاشبہ خوبصورت آواز سے قرآن مجید کے حسن میں اضافہ ہوتاہے اور تلاوت کرنے والوں اور سننے والوں میں مزید تلاوت کرنے اور سننے کی تمنا پیدا ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں تکلف سے گریز کرنا ضروری ہے۔
معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت مخصوص سریلی آواز کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس معاملے میں عرب کے لہجے کو سامنے رکھنا چاہیے، جیسے حرم مکی کے امام تلاوت کرتے ہیں، زیادہ تکلف سے بچنا چاہیے، جیسے آج کل مصری قراء کی تلاوت کا انداز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5023، 5024، 7482، ومسلم: 792 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7657»