الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
باب باب: قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَاسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم قرآن پاک پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب لوگ بھی تھے اور عجمی بھی اور سیاہ رنگت والے بھی تھے اور سفید رنگت والے بھی، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم بھلائی پر ہو، تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو، جبکہ تم میں اللہ کے رسول بھی موجود ہیں، عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ اس کتاب کو خوبصورت پڑھنے کے لیے اتنا مبالغہ کریں گے، جیسے تیرکو بڑی توجہ کے ساتھ سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے اجر کو (دنیا میں ہی) جلدی جلدی وصول کریں گے اور اس کو آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا باب اور اس کی تشریح۔