حدیث نمبر: 8355
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم قرآن پاک پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب لوگ بھی تھے اور عجمی بھی اور سیاہ رنگت والے بھی تھے اور سفید رنگت والے بھی، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم بھلائی پر ہو، تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو، جبکہ تم میں اللہ کے رسول بھی موجود ہیں، عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ اس کتاب کو خوبصورت پڑھنے کے لیے اتنا مبالغہ کریں گے، جیسے تیرکو بڑی توجہ کے ساتھ سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے اجر کو (دنیا میں ہی) جلدی جلدی وصول کریں گے اور اس کو آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی قرآن مجید کے الفاظ کی ادائیگی اور ان کے مخارج کا بہت زیادہ خیال رکھا جائے گا، پرترنم اور سریلی آواز میں اور خوب اتار چڑھاؤ کے ساتھ تلاوت کی جائے گی، لیکن مقصودیہ ہو گا کہ لوگوں کو خوش کر کے ان سے مال و دولت بٹورا جائے۔ عصرِ حاضر میں ایسے لوگوں نے قرآن مجید کو پیشہ بنا رکھا ہے۔ ان کی خلوتیں کیا، جلوتوں میں بھی قرآن حکیم کا ان کے وجود پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا باب اور اس کی تشریح۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8355
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، وفاء الخولاني في عداد المجھولين، وابن لھيعة سييء الحفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)12484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12512»