الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
باب باب: قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8354
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي آيَةً كُنْتُ نُسِّيتُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا، وہ ایک آیت کی تلاوت کر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی، مجھے تو وہ بھلا دی گئی تھی۔
وضاحت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم قرآن پاک پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب لوگ بھی تھے اور عجمی بھی اور سیاہ رنگت والے بھی تھے اور سفید رنگت والے بھی، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم بھلائی پر ہو، تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو، جبکہ تم میں اللہ کے رسول بھی موجود ہیں، عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ اس کتاب کو خوبصورت پڑھنے کے لیے اتنا مبالغہ کریں گے، جیسے تیرکو بڑی توجہ کے ساتھ سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے اجر کو (دنیا میںہی) جلدی جلدی وصول کریں گے اور اس کو آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔