حدیث نمبر: 8352
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ لِصَاحِبِهِ أَنَا الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَظْمَأْتُ هَوَاجِرَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت قرآن پاک زرد رنگت والے آدمی کی مانند آئے گا۔ اپنے ساتھی سے کہے گا: میں نے تجھے رات بیدار رکھا اور تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا توا ٓج میں سفارش کروں گا۔

وضاحت:
فوائد: … اَلشَّاحِب کے معانییہ ہیں: وہ شخص جس کا رنگ اور جسم کسی بیمارییا سفر جیسے عارضے کی وجہ سے بدلا ہوا ہو، حافظ سیوطی نے کہا: قرآن مجید کی اس حالت میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی صاحب ِ قرآن سے مشابہت ہو جائے، جس نے رات کو بیدار رہ کر تلاوت و قیام کے ذریعے اور دن کو روزے کے ذریعے اپنے آپ کو تھکا دیا تھا، یایہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسے دنیا میں عمل کی وجہ سے صاحب ِ قرآن کا رنگ بدل جاتا تھا، اسی طرح قیامت والے دن اس کے لیے تگ و دو کرنے کی وہ سے قرآن کے مخصوص وجود کا رنگ بدلا ہوا ہو گا۔ واللہ اعلم۔حافظ ِ قرآن اور دوسرے صاحب ِ قرآن لوگوں کو قرآن مجید کے ان سفارشی الفاظ پر غور کرنا چاہیے، تاکہ ہم اپنا جائزہ لے سکیں کہ آیا ہم ان الفاظ کا مصداق بن سکیں گے یا نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 2781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23364»